Skip to main content
Open this photo in gallery:

Gundeep Singh, centre, with his roommates Manas Kaur, far left, Rasleen Kaur, Amandeep Singh, Gurliv Singh and Jaspreet Singh at Professor's Lake in Brampton.Baljit Singh/The Globe and Mail

جب 2020 نے ہمارے دروازوں پر دستک دی تو ہم نے کئی منصوبے بنا رکھے تھے – نئے سال کے عزم کی طویل فہرستیں، نئے عہد و پیمان، نئی ذمے داریاں۔ کون جانتا تھا کہ یہ ساتھ میں ایک بِن بُلائے مہمان کو لے کر آئے گا جو ہماری زندگیوں پر قبضہ کر لے گا؟

ہم میں سے کچھ کے لیے تو کچھ بھی نہیں بدلا – لیکن باقیوں کے لیے سب کچھ بدل گیا ہے۔ مجھے دونوں کا تجربہ ہوا ہے۔

جب یہ عالمی وباء پہلی مرتبہ پھیلی تو میں کوویڈ-19 سے کچھ خاص متاثر نہیں ہوا تھا۔ میں پہلے ہی امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک فلاحی ادارے (این جی او) کے لیے گھر سے کام کر رہا تھا۔ میرا خاندان میرے وطن انڈیا میں تھا، خیر خیریت سے، جہاں پر کیسز بہت کم تعداد میں تھے اور ہر چیز قابو میں تھی۔

شومئیِ قسمت، 2021 اپنے دامن میں میرے لیے بہت مختلف منصوبے لیے ہوئے تھا۔ سال کے شروع سے ہی مجھے میرے وطن میں میرے جاننے والوں کے کوویڈ پازیٹیو ہونے کی خبریں ملنا شروع ہو گئیں۔ اگرچہ اس وقت ان میں سے کوئی بھی شدید بیمار نہ تھا۔

یہاں کینیڈا میں، میں پانچ دوسرے لوگوں کے ساتھ رہتا ہوں: گُرلیوّ سنگھ، رَسلِین کور (گُرلیوّ کی بہن)، امن دیپ سنگھ، منس کور اور جسپریت سنگھ۔ ہم سب انڈیا سے ہیں اور میں امن، گُرلیوّ اور رَسلِین کو پہلے سے جانتا تھا کیونکہ ہم سب نئی دہلی میں ایک ہی علاقے میں رہ چکے تھے۔ ہم سب کی مختلف شخصیتیں اور نقطہ نگاہ ہیں، پھر بھی ہم حیران کُن طور پر گھل مل گئے ہیں۔ اب وہ سب میرے لیے اپنے خاندان کی طرح ہو گئے ہیں۔

1 اپریل کو، ہمارے گھر کے سب سے کم عمر فرد، گُرلیو، جو کہ کچھ نٹ کھٹ کردار واقع ہوا ہے، نے کہا کہ وہ بیمار محسوس کر رہا ہے۔ ہم نے سوچا کہ وہ ہمیں بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہا ہے تو ہم میں سے کسی نے بھی اس کی بات کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔ جلد ہی ہمیں احساس ہو گیا کہ ہم کتنے غلط تھے جب اگلی صبح ہم نے اس کو تیز بخار اور سر درد کے ساتھ تڑپتے ہوئے دیکھا۔ ہم نے فوراً اس کے لیے دوا کا بندوبست کیا اور اس کو ایک دوسری منزل پر قرنطینہ کر دیا۔

اس ہی صبح گُرلیوّ کو اس کے کام کی جگہ سے کال موصول ہوئی کہ وہاں پر کسی کا ٹیسٹ مثبت آیا تھا اور اس کو بتایا گیا کہ اس کو بھی ٹیسٹ کروانا ہو گا۔ تو اس نے ٹیسٹ کروایا۔ نتیجہ؟ مثبت۔

ہمارے گھر کے ہر فرد نے اس کے قرنطینہ میں ہوتے ہوئے اس کا خیال رکھنے کی اپنی بہتریں کوشش کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ اس کو تنہا چھوڑ دیے جانے یا غیر ضروری پریشانی کا احساس نہ ہو۔

کچھ دن بعد میں اس احساس کے ساتھ بیدار ہوا جیسے کوئی میرے سر میں سو سوئیاں پیوست کر رہا ہو۔ پھر میرے ذہن میں جھماکا ہوا: گُرلیوّ نے اس ہی دن مجھے ایک بڑی سی جپھی دی تھی جس دن اس نے بیمار محسوس کرنا شروع کیا۔

اس کے بعد رَسلِین اور جسپریت بھی بخار اور کوویڈ کی دیگر علامات کا شکار ہوئے۔ اپریل کے دوسرے ہفتے تک ہم چاروں ہمارے گھر کی دوسری منزل پر قرنطینہ کر رہے تھے، جبکہ ہمارے دو محفوظ رہ جانے والے اہلِ خانہ، امن اور منس، پہلی منزل پر لیونگ روم میں منتقل ہو گئے۔ کیونکہ وہ دوسروں کے ساتھ مل کر اپنے کمروں میں رہتے رہے تھے تو ان کو اپنے گدّوں کی جراثیم کشی کرنا پڑی، اپنے تمام کپرے اور چادریں دھونی پڑیں، اور وہ اپنی تمام اشیاء کو نچلی منزل پر لے گئے۔ ہمارا لیونگ ہنگامی پناہ گاہ لگنا شروع ہو گیا۔

امن اور منس دونوں نے باقی ہم سب کی ایک ہفتے تک دیکھ بھال کی۔ انہوں نے ہمارے لیے خاص قسم کے کھانے بنائے، ہمارے کپڑے دھوئے، ہماری ادویات کا بندوبست کیا – اور ساتھ ساتھ پروٹوکولز کی پابندی اور اپنا کام بھی کرتے رہے۔

بد قسمتی سے دوسرے ہفتے کے آخر تک امن اور منس بھی کوویڈ مثبت کلب میں شامل ہو گئے۔ اس وقت تک جسپریت صحت یاب ہو چکا تھا اور اس نے ہم سب کا کھانا پکانا شروع کر دیا۔

ان چند ہفتوں کا مجھ پر شدید اثر ہوا۔ اس نے واقعی کورونا وائرس کی حقیقت کو عیاں کر دیا۔ ہم سارا دن بس اپنے کمرے میں بستر پر لیٹے لیٹے گزارتے، درد سے تڑپتے، یہ سوچتے ہوئے کہ اس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔ ساتھ ساتھ ہم وطن میں اپنے پریشان، بے بس والدین کو ویڈیو کالز کے ذریعے تسلی دینے کی کوشش کر رہے ہوتے تھے۔

عام طور پر ہم رات کا کھانا اکٹھے کھاتے تھے چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ یہ ہمارے گھر میں ایک قسم کی رسم بن گئی تھی – اپنے خیالات اور پریشانیاں بانٹنے کا وقت۔ لیکن جب تک ہم قرنطینہ میں تھے تو ہم اپنے کمروں میں اکیلے کھانا کھاتے تھے۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی بلا ہمارے گھر میں گُھس آئی تھی، اس نے ہم سب کو قید کر رکھا تھا اور اب ہم سب کو کھا رہی تھی۔ ہمارے گھر کا عام طور پر روشن، خوش باش ماحول آہستہ آہستہ ایک اداس، مایوس کن ماحول میں تبدیل ہوتا جا رہا تھا۔

تب ہم نے فیصلہ کیا کہ اب بہت ہو چکا۔ ہم خود کو اضطراب اور مایوسی کے نہ ختم ہونے والے چکر میں پھنسنے نہیں دے سکتے تھے۔ ہم نے اپنے بند دروازوں کے پار سے ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنا شروع کر دی۔ ہم سب نے اپنے اپنے کمروں سے ویڈیو چیٹ پر اکٹھے رات کا کھانا کھانا شروع کر دیا۔ اگرچہ ہر کوئی ابھی بھی پست حوصلہ محسوس کرتا تھا، جسمانی اور ذہنی دونوں طرح، ہم نے ایک دوسرے کا ہر ممکن طور پر بہتریں انداز میں خیال رکھا۔

جس دن ہم سب نے اپنا قرنطینہ مکمل کر لیا، ہم سب نے ایک ساتھ عبادت کی، رات کا کھانا پکایا اور اپنی رات کے کھانے کی رسم کو پھر سے شروع کیا۔ ایسا لگتا تھا جیسے ہم سب نے ایک بہت ہی مشکل امتحان دیا ہو – اور کامیاب ہوگئے ہوں۔ ہمیں کیا معلوم تھا کہ یہ تو آنے والی مزید آزمائشوں کا فقط آغاز تھا۔

کوویڈ کی صورتحال ہمارے وطن انڈیا میں خراب ہونا شروع ہو گئی، اور ہمارے والدین میں سے کئی براہِ راست متاثر ہوئے۔ میری والدہ جو کہ دہلی میں اکیلی رہتی ہیں، ان میں کوویڈ کی ہلکے درجے کی علامات ظاہر ہوئیں۔ ان کی دیکھ بھال کرنے کے لیے کوئی نہیں تھا۔ وہ پہلے ہی سکون آور ادویات استعمال کرتی ہیں اور با آسانی اضطرابی کیفیت کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ایک وقت ایسا تھا کہ وہ بستر سے اُٹھ بھی نہیں پاتی تھیں۔ میں نے روزانہ ان کو تازہ پکے کھانے پہنچوانے کے لیے ایک ٹفن سروس کا بندوبست کیا، لیکن پھر بھی سوچتا تھا کہ وہ سب کچھ اکیلے کس طرح کر پا رہی ہوں گی۔

گُرلیوّ اور رَسلِین کے والد بھی وائرس سے سخت متاثر ہوئے اور ان کو سانس لینے میں دقت ہوئی۔ اگرچہ دہلی میں کسی بھی ہسپتال میں بیڈ دستیاب نہیں تھے، وہاں کے ابتر حالات کے متعلق سننے کے بعد گُرلیوّ نہیں چاہتا تھا کہ اس کے والد ہسپتال جائیں۔ سو اس نے ان کے لیے گھر میں ایک آکسیجن کنسنٹریٹر کا بندوبست کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کر ڈالا۔

بعد میں اس کے والد صحت یاب ہو گئے۔ لیکن افسوس ایسا ہم سب کے معاملے میں نہیں ہوا۔ جس وقت میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں ہمارا گھر سوگ میں ہے۔ امن کے والد تشویشناک حالت میں دو ہفتے سے ہسپتال میں داخل تھے۔ ان کے پھیپھڑے کام کرنا چھوڑ گئے تھے اور ڈاکٹر ایکسٹراکارپورئیل میمبرین آکسیجنیشن کو آزمانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ لیکن اس سے پہلے کہ کوئی مزید علاج کیا جاتا، امن کے والد گزر گئے۔

ہمارا خیال تھا کہ کسی نہ کسی طرح ہم نے خود کو اس خبر کے لیے تیار کیا ہوا تھا، لیکن بالاخر جب یہ خبر آئی تب ہمیں احساس ہوا کے ہم تیار ہونے سے کتنا دور تھے۔ ہم نے اس کے والد کی آخری رسومات میں ویڈیو کال کے ذریعے شرکت کی۔ ہم نے ساری رات امن کے والد کے لیے دعا کی – سکھ برادری میں ہم یہ مانتے ہیں کہ اگر ہم گزر جانے والے کے لیے دعا کریں، تو وہ دعائیں مزید تکلیف سے بچانے میں مددگار ہو سکتی ہیں۔

میں امید کرتا ہوں کے میں اپنے تجربے، اور اپنے فلاحی اداروں میں کام کے پسِ منظر کو دوسروں کی مدد کرنے کے لیے کام میں لا سکوں – خاص طور پر ایسے دوسرے افراد یا خاندانوں کی جن کو کوویڈ-19 لاحق ہوا یا جن کو اپنے اہلِ خانہ کے اس وائرس سے بیمار پڑنے کا سامنا کرنا پڑا۔ طبّی اور مالی امداد اہم ہے لیکن یہ یقینی بنانا بھی ضروری رہے گا کہ ان کو مشاورت اور ذہنی صحت کےحوالے سے دیگر معاونت بھی ملے۔

کوویڈ نے مجھے جسمانی طور پر کمزور کر دیا لیکن ذہنی طور پر مضبوط بنا دیا۔ خود اس سے گزر چکنے کے بعد میں اس تکلیف، الجھن اور بے بسی کو بہتر طور پر سمجھ سکتا ہوں جواس سے متاثر ہونے والے دوسرے کسی نہ کسی شکل میں محسوس کرتے ہیں۔

Our Morning Update and Evening Update newsletters are written by Globe editors, giving you a concise summary of the day’s most important headlines. Sign up today.

Follow related authors and topics

Authors and topics you follow will be added to your personal news feed in Following.

Interact with The Globe